World
امریکہ نے برطانیہ کے اڈے سے بمبرز واپس کیوں بلائے؟
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے سے بی ون بمبرز کو واپس امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر کیا گیا۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز اردو) امریکہ نے برطانیہ میں واقع اپنے فوجی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی ون بمبرز کو واپس اپنے ملک بلا لیا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فیصلہ حفاظتی تدابیر اور کسی ممکنہ خطرے کے تدارک کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ طیارے جو کہ امریکی فضائیہ کی طاقت کا اہم حصہ ہیں، اب اپنی ہوم سٹیشنز پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ان بمبرز کی فوری واپسی ناگزیر ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اپنے اثاثوں اور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، پینٹاگون کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز ان طیاروں کی برطانیہ سے امریکہ منتقلی کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر عسکری اور دفاعی امور میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور عالمی طاقتیں اپنی اسٹریٹجک پوزیشنز کا از سر نو جائزہ لے رہی ہیں۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے عام طور پر بڑے اسٹریٹجک تنازعات یا اچانک پیدا ہونے والے سکیورٹی بحرانوں کے تناظر میں کیے جاتے ہیں، تاکہ اہم جنگی اثاثوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ آئندہ آنے والے دنوں میں لگایا جا سکے گا۔