World
قیدی کی خودکشی، دہشت گردی کے احکامات کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا
برطانیہ میں ایک تحقیقاتی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ اختر উদ্দিন نامی قیدی نے اپنی ذہنی حالت پر دہشت گردی کے نفاذ کے اقدامات کے شدید منفی اثرات کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ وہ سنہ 2020 میں دہشت گردی سے بچاؤ اور تفتیشی اقدامات کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کیے گئے تھے۔
برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک قیدی نے اپنی زندگی کا خاتمہ اس وقت کر لیا جب دہشت گردی سے بچاؤ اور تفتیشی اقدامات کے اس کے ذہنی توازن پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس معاملے نے جیلوں میں قیدیوں کے نفسیاتی مسائل اور حکومتی احکامات کے اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اختر উদ্দিন نامی قیدی کو سنہ 2020 میں دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق سخت اقدامات اور تفتیشی پابندیوں (TPIMs) کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان پابندیوں اور قانونی احکامات کی وجہ سے موصوف کی ذہنی حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی، جس کا ان کی زندگی پر براہ راست اور نمایاں اثر پڑا۔
تحقیقاتی کارروائی کے دوران جیوری اور تفتیشی حکام نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا قیدی کو مناسب طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔ عدالتی کارروائی میں یہ بات سامنے آئی کہ سخت سکیورٹی پروٹوکولز اور پابندیوں کے باعث موصوف شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے، جو آخرکار اس دلخراش واقعے کا سبب بنا۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سکیورٹی اقدامات سے جہاں ایک طرف سکیورٹی کے مقاصد حاصل ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے قیدیوں کی نفسیاتی صحت پر تباہ کن اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد جیل حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ قیدیوں کی ذہنی صحت کی مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادّثات سے بچا جا سکے۔