LIVE
Loading Breaking News...

صہیونیت مخالف قرارداد اور پولانسکی کا ردعمل

News Image
برطانوی سیاست میں صیہونیت مخالف قرارداد پر گرما گرم بحث کے دوران گرین پارٹی کے رہنما نے اپنی صفائی پیش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے سیاسی اور نظریاتی اخراج کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
برطانوی سیاست میں ایک بار پھر صیہونیت کے موضوع پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے جب گرین پارٹی کی ایک متنازع قرارداد پر سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تنازع کے مرکز میں موجود رہنما پولانسکی نے تمام تنقید کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے نظریاتی اخراج کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق اور سیاسی موقف پر قائم رہیں گے۔ دوسری جانب، لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ اور یورپی گرینز نے گرین پارٹی کی قیادت سے فوری طور پر اس معاملے پر مکمل وضاحت طلب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صیہونیت کے حوالے سے پیش کی جانے والی اس قرارداد سے معاشرے میں تفریق بڑھ رہی ہے اور اس پر پارٹی کی خاموشی تشویشناک ہے۔ تنقید کرنے والے سیاست دانوں کا مطالبہ ہے کہ اس حساس مسئلے پر قیادت دوٹوک موقف اختیار کرے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ پولانسکی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان پر ہونے والی تنقید سیاسی نوعیت کی ہے اور انہیں دبانے کی ایک کوشش ہے، جبکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات اور قراردادیں پارٹی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ گرین پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی اس قرارداد اور اس کے ممکنہ نتائج پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے قیادت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ لیبر اراکین اور یورپی رہنما اس معاملے کو آسانی سے چھوڑنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے متنازع موضوعات پر سیاسی جماعتوں کا اندرونی خلفشار عام انتخابات یا پالیسی سازی کے عمل کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے، اور پولانسکی کا یہ بیان اس کشمکش کو مزید طول دے گا۔