Technology
کیلیفورنیا میں فلاک کیمروں کی 71 فیصد غلطیاں، اہم رپورٹ جاری
امریکہ کے شہر روزویل میں پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اے آئی پر مبنی لائسنس پلیٹ ریڈنگ کیمروں نے 71 فیصد مقدمات میں گاڑیوں کی شناخت غلط کی۔ یہ رپورٹس ٹیکنالوجی کے درستگی کے معیار پر اہم بحث کو جنم دیتی ہیں۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر روزویل کی پولیس کی جانب سے ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق شہر میں نصب کیے جانے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی لائسنس پلیٹ ریڈنگ کیمرے بڑے پیمانے پر غلطیوں کا شکار ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ایک ہزار چار سو ستائیس ایسے واقعات سامنے آئے جن میں ان کیمروں نے دعویٰ کیا کہ کوئی گاڑی چوری شدہ ہے یا کسی سنگین جرم میں استعمال ہوئی ہے۔ تاہم، جب ان تمام معاملات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے اکہتر فیصد مقدمات میں کیمروں نے نمبر پلیٹ کو غلط پڑھا تھا۔ اس سنگین غلطی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی غلطیاں معصوم شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ غلط شناخت کی بنیاد پر پولیس کسی بھی شہری کو روک سکتی ہے یا تفتیش کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ فلاک سیفٹی (Flock Safety) کے یہ کیمرے امریکہ بھر میں پولیس محکموں کی جانب سے جرائم کی روک تھام اور مشکوک گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ روزویل پولیس ڈیپارٹمنٹ کی اس تازہ ترین رپورٹ نے ان سسٹمز کی افادیت اور درستگی کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیٹڈ نمبر پلیٹ ریکنیشن (ANPR) سسٹمز پولیس کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، لیکن ان کی مکمل انحصار سے پہلے ان کی درستگی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ شہر کے شہریوں اور سول سائنس کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کیمروں کے استعمال کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ کسی بھی شہری کی نجی زندگی اور آزادی متاثر نہ ہو۔