World
لندن میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ، مجرم کو عمر قید
برطانیہ میں پناہ کی درخواست مسترد ہونے والے ایک شخص کو لندن میں اسرائیلی سفارت خانے پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کرنے پر عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ملزم چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوا تھا اور صرف سولہ دن بعد اس نے اس خطرناک واقعے کو انجام دیا۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں واقع اسرائیلی سفارت خانے پر چاقو کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم نے سفارت خانے کی سیکیورٹی کو توڑ کر اندر داخل ہونے اور وہاں موجود عملے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ عدالت نے ملزم کے جرم سنگین پائے جانے کے بعد اسے سخت ترین سزا کا حکم دیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس مجرم کی شناخت عبداللہ البدری کے طور پر ہوئی ہے جو چند روز قبل ہی غیر قانونی طور پر انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچا تھا۔
حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، عبداللہ البدری واقعہ سے محض سولہ دن قبل ہی ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے برطانیہ میں داخل ہوا تھا اور اس نے ملک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم، حکام کی طرف سے اس کی درخواست کو تاحال باضابطہ منظوری نہیں ملی تھی اور وہ اس دوران ہی اس انتہائی اقدام کی طرف راغب ہو گیا۔ سفارت خانے کے باہر سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور اسے موقع پر ہی حراست میں لے لیا۔ ملزم کے قبضے سے دو تیز دھار چاقو بھی برآمد کیے گئے تھے جنہیں وہ حملے کے لیے استعمال کرنے والا تھا۔
اس واقعے کے بعد برطانیہ اور بالخصوص لندن میں سفارتی مشنز کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو مزید الرٹ کر دیا گیا ہے۔ برطانوی عدالت میں جب اس مقدمے کی سماعت ہوئی تو استغاثہ نے ملزم کے خلاف ناقابل تردید شواہد پیش کیے جن سے یہ ثابت ہوا کہ یہ حملہ منصوبہ بند تھا اور اس کا مقصد سفارت خانے کے اندر جانی نقصان پہنچانا تھا۔ جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پرتشدد جرائم کے لیے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔
اسرائیلی حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کی تھی اور برطانوی سیکیورٹی اداروں کے بروقت اقدام کو سراہا تھا۔ اس مقدمے کے فیصلے کے بعد اب یہ بحث بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ آنے والے تارکین وطن کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے تاکہ اس قسم کے سیکیورٹی خدشات سے بروقت نمٹا جا سکے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پیچھے کوئی اور تنظیم یا نیٹ ورک ملوث تھا یا یہ اس کا اپنا انفرادی فعل تھا۔