LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی ووٹرز میں ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی، ڈیموکریٹس کو برتری

News Image
آئندہ نومبر میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ہسپانوی ووٹرز کے درمیان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ہسپانوی نژاد امریکی ووٹرز ریپبلکن پارٹی کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ترجیح دینے میں دو گنا آگے ہیں۔
امریکہ میں رواں سال نومبر میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات سے قبل سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ تازہ ترین سیاسی جائزوں اور اطلاعات کے مطابق ہسپانوی نژاد ووٹرز (Hispanic Voters) کے درمیان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اس صورتحال نے آئندہ انتخابات کے نتائج کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کروا لی ہے، کیونکہ ہسپانوی برادری امریکی سیاست میں ایک فیصلہ کن ووٹ بینک کی حیثیت رکھتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہسپانوی ووٹرز اس وقت ریپبلکن پارٹی کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی طرف دو گنا زیادہ مائل نظر آ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی پالیسیاں اور موقف اس برادری کے اندر زیادہ پذیرائی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ماضی کی پالیسیاں اور بیانات اس اہم طبقے کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ رجحان ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جو کہ روایتی طور پر اس ووটার بیس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی مدتی انتخابات سے پہلے ہسپانوی ووٹرز کا یہ رویہ کانگریس اور سیمی نٹ انتخابات کے نتائج کو براہ راست متاثر کرے گا۔ اگر ریپبلکن پارٹی اس برادری کا اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہتی ہے تو انہیں اہم ریاستوں میں شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ آنے والے ہفتوں میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ہسپانوی ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مزید انتخابی مہمات اور حکمت عملیوں کا اعلان کریں گی۔ معاشی مسائل، تارکین وطن کے حقوق اور روزگار کے مواقع اس مہم کے دوران مرکزی موضوعات رہنے کی توقع ہے۔ انتخابی نتائج کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ کون سی جماعت اس اہم ووটার طبقے کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔