World
کارنیل یونیورسٹی میں اجتماعی زیادتی کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی
کارنیل یونیورسٹی میں ایک فریسٹرنٹی میں اجتماعی زیادتی کے الزامات کے بعد طالب علموں نے احتجاجی نعرے درج کیے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ طلبہ تنظیموں نے طلبہ برادری کے نظام کو ختم کرنے اور مجرموں کے خلاف کڑے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں ایک فریسٹرنٹی کے اندر پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کی عمارتوں اور ہالز پر احتجاجی نعرے درج کیے گئے ہیں جن میں پدرشاہی نظام کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ طلبہ تنظیموں نے اس واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے تمام اداروں اور نظام کو فوری طور پر ختم کرے جو اس طرح کے جرائم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اور دندان شکن اقدامات کی ضرورت ہے۔ حالیہ الزامات نے نہ صرف کیمپس کے اندر بلکہ پورے ملک میں طلبہ کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے ایک طویل بحث کو جنم دے دیا ہے۔ طلبہ تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ انتظامیہ مجرموں کے خلاف تاخیر کا شکار ہوئے بغیر فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائے تاکہ آئندہ ایسے کسی بھی واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات اور طلبہ کے تحفظ کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ روایتی اقدامات اب ناکافی ثابت ہو چکے ہیں۔ طلبہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک متاثرہ فریق کو مکمل انصاف نہیں ملتا اور کیمپس کا ماحول محفوظ نہیں بنایا جاتا، ان کا احتجاج اور جدوجہد مختلف شکلوں میں جاری رہے گی۔ اس واقعے نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی اور جرائم کے خلاف زیرِ زمین موجود غصے کو ایک بار پھر سطح پر لے آیا ہے۔