LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیا کا بحیرہ احمر تک رسائی کا مطالبہ اور علاقائی کشیدگی

News Image
ایتھوپیا کے وزیراعظم نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے خطرات کے باوجود بحیرہ احمر تک رسائی حاصل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری طرف پڑوسی ممالک کا کہنا ہے کہ ساحلی ریاستوں کو ہی بحیرہ احمر کے امور کا انتظام سنبھالنا چاہیے۔
ایتھوپیا کے وزیراعظم نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ خشکی میں گھرے ہوئے ان کے ملک کے لیے بحیرہ احمر تک رسائی حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی ایتھوپیا میں جاری لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے اور اس مطالبے کی وجہ سے خطے میں ایک نئے تنازع کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ وزیراعظم کے اس مؤقف نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ ساحلی ریاستیں اس اقدام کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔ اس معاملے پر متعدد پڑوسی ممالک اور علاقائی رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر ایک انتہائی حساس اور اہم آبی گزرگاہ ہے، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت صرف اس کے ساحلی ممالک کو ہی اس کے امور کو چلانے اور اس کے نظم و نسق کا اختیار ہونا چاہیے۔ پڑوسی ممالک کا ماننا ہے کہ ایتھوپیا کی جانب سے اس راستے تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتی ہیں اور اس سے پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایتھوپیا کی معیشت اور تجارت کے لیے بندرگاہوں تک رسائی ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ موجودہ وقت میں ملک اپنی تجارت کا بڑا حصہ جبوتی کی بندرگاہ کے ذریعے کرتا ہے۔ تاہم، بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ممالک کے ساتھ اس نوعیت کے مذاکرات یا مطالبات علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں۔ فریقین کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ معاملے کا پرامن حل نکالا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید سنگین ہونے کے خدشات موجود ہیں کیونکہ ایتھوپیا اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ بحیرہ احمر کے خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔