World
روسی علاقے سائبیریا میں طاعون کا خطرہ، امریکہ کی مدد کی پیشکش
روسی حکام نے سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ واقعے کے بعد ایک ہسپتال کو قرنطینہ کر دیا ہے اور دو سو سے زائد افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔
روسی حکام نے سائبیریا کے ایک علاقے میں طاعون (پنیومونک پلیگ) کے مشتبہ واقعے کے بعد مقامی ہسپتال کو قرنطینہ کر دیا ہے اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خطرناک بیماری کے سامنے آنے کے بعد تقریباً دو سو سے زائد ایسے افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جو ممکنہ طور پر متاثرہ مریض کے رابطے میں آئے تھے۔ روسی طبی ماہرین صورتحال پر قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ اس مہلک وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس سنگین صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس دوران امریکہ نے روس کو اس طبی بحران سے نمٹنے کے لیے باضابطہ طور پر امداد کی پیشکش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ سائبیریا میں طاعون کے پھیلاؤ کے خلاف روس کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طاعون ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی حکام نے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے متاثرہ علاقے اور ہسپتال کو سیل کر دیا ہے تاکہ وائرس یا بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے دائرے کو محدود کیا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی طبی ادارے بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور روسی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔