World
رومانیہ کے پانیوں میں روسی ڈرون حملے سے جہاز تباہ، یوکرین کا دعویٰ
یوکرین نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں رومانیہ کے پانیوں میں ایک بحری جہاز ڈوب گیا ہے۔ نیٹو کے مشرقی حصے میں ہونے والے اس واقعے سے جنگ کے پھیلنے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یوکرین کی جانب سے ایک بار پھر یہ سنگین دعویٰ سامنے آیا ہے کہ روس کے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں رومانیہ کے علاقائی پانیوں میں ایک بحری جہاز تباہ ہو کر ڈوب گیا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نیٹو کی مشرقی سرحد کے قریب اس نوعیت کے واقعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ یوکرین کی جنگ اب ہمسایہ ممالک تک پھیلنے کا حقیقی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد سے یورپی ممالک اور بالخصوص نیٹو کے اتحادیوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ کسی بھی نیٹو رکن ملک کی حدود میں اس قسم کا حملہ عسکری کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔ یوکرینی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی جارحیت کا فوری نوٹس لے جو کہ نہ صرف یوکرین بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، اس واقعے کے بعد بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کی سکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ تجارتی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے سے بین الاقوامی سپلائی لائنز اور جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوگی۔ نیٹو کے عسکری ذرائع صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ حملہ دانستہ تھا یا تکنیکی خرابی کا نتیجہ۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا تو یہ نیٹو اور روس کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کا باعث بن سکتا ہے۔