World
مکہ معاہدہ: پاکستان اور ترکیہ کی سعودی عرب میں فوج تعیناتی پر اتفاق
ترکیہ اور پاکستان نے تاریخی مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوری طور پر فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت جلد ریاض کا دورہ کرے گی۔
ترکیہ اور پاکستان نے تاریخی مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مملکت میں فوری طور پر فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس اہم دفاعی فیصلے کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دفاعی حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان عسکری تعلقات ایک نئے اور بلند تر مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے پر عمل درآمد اور لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ریاض پہنچ رہے ہیں جہاں وہ مکہ معاہدے کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں عسکری تعیناتی کے شیڈول، لاجسٹک امور اور دیگر اہم دفاعی معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس اقدام کو خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف سعودی عرب کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کو تقویت ملے گی بلکہ مسلم دنیا بالخصوص پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ત્રિપੱਖی دفاعی اور سٹریٹیجک اتحاد بھی مضبوط ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان باضابطہ طور پر سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی معاونت اور خطے میں امن بحال کرنے کے لیے اپنے فوجی دستے تعینات کرنے جا رہا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر انتہائی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔