LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی اسکولوں کا احتجاج، پولیس سے جھڑپوں میں دو سو طلباء زخمی

News Image
فرانس میں طلباء کے جاری احتجاج اور پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً دو سو طلباء زخمی ہو چکے ہیں۔ اس پرتشدد صورتحال کے دوران ایک کم عمر نوجوان کا ہاتھ بھی دھماکے میں اڑ گیا ہے جبکہ سیکڑوں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
فرانس بھر میں ہائی اسکولوں کے طلباء کا احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے دوران اب تک تقریباً دو سو طلباء کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پورے ملک میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں تعلیمی ادارے حفاظتی اقدامات کے تحت بند کرنے پڑے ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس احتجاج کے دوران پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں ایک نوعمر طبع کا ہاتھ پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہونے والے ایک دھماکے میں اڑ گیا، جس کے بعد مظاہروں کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طلباء اسکولوں کے بلاکڈ سے لے کر سڑکوں پر احتجاج تک مختلف طریقوں سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ احتجاج اب پرتشدد شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تعلیمی اداروں کے ارد گرد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رہے ہیں تاکہ مزید پرتشدد واقعات کو روکا جا سکے اور نظام زندگی کو بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب، طلباء رہنماؤں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور پولیس گردی کو روکے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس بحران کا پرامن حل جلد تلاش نہ کیا گیا تو فرانس میں یہ طلباء تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔