World
یوکرین پر روس کے حملے، زیلنسکی کا فضائی دفاعی نظام کمزور ہونے کا انتباہ
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس کے شدید حملوں کے باعث ملک کا فضائی دفاعی نظام دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ رات کے حملوں میں نو افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد انہوں نے مغربی اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید رات کے حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم نو افراد جاں بحق ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان حالیہ حملوں نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روسی بمباری کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان کا موجودہ فضائی دفاعی نظام بری طرح دباؤ کا شکار اور دمدار حملوں کے سامنے کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی تشویشناک ہو گئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز خود تیار کرنے کی اجازت دینے کے اپنے عوامی وعدے سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا۔ اس فیصلے سے کیف حکومت کی دفاعی تیاریوں کو ایک بڑا دھکا لگا ہے، کیونکہ یوکرین طویل عرصے سے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی آلات کا متمنی ہے۔ یوکرینی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر اتحادی ممالک نے بروقت جدید ترین فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹرز فراہم نہ کیے تو روس کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کو روکنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے جانی و مالی نقصان میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔