AI
ٹرمپ کا نیا اے آئی ٹاسک فورس اور انٹیلی جنس چیف کی تقرری
ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ کو برتری دلانے کے لیے ایک نئی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم ادارے کی قیادت کے لیے ملک کے سرفہرست انٹیلی جنس باس کا انتخاب کیا گیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے کو مزید مستحکم کرنے اور اس پر حکومتی کنٹرول اور ترقیاتی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ایک نئے وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم ترین ادارے کی سربراہی کے لیے ملک کے ٹاپ انٹیلی جنس باس کا انتخاب کیا گیا ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کی حکمت عملی طے کریں گے۔ اس فیصلے کو امریکی تکنیکی میدان میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی سپر انٹیلی جنس فورس کا بنیادی مقصد امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر بالخصوص چین جیسےممالک کے مقابلے میں تکنیکی برتری حاصل کی جا سکے۔ نامزد کردہ انٹیلی جنس سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ٹاسک فورس کے اراکین کے ساتھ مل کر قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے مربوط لائحہ عمل تیار کریں گے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں محاذ آرائی کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دے تاکہ عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے محفوظ اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، واشنگٹن میں تیار ہونے والی اس نئی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی انٹیلی جنس اور تکنیکی صلاحیتوں کو یکجا کر کے اس شعبے میں سب سے آگے رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔