LIVE
Loading Breaking News...

یورپی خلائی سرمایہ کاری اور گلاسگو کا سیٹلائٹ سیکٹر

News Image
یورپی ممالک کی جانب سے خلائی شعبے میں اربوں ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ گلاسگو کی مقامی سیٹلائٹ صنعت کے لیے اس تیز رفتار مسابقت میں برقرار رہنا ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
یورپ بھر میں خلائی شعبے کو فروغ دینے کے لیے اربوں روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس نے روایتی صنعتی مراکز میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ سکاٹ لینڈ کا شہر گلاسگو، جو کبھی بحری جہاز سازی اور بھاری صنعتوں کے لیے جانا جاتا تھا، اب برطانوی خلائی اور سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں چھوٹے سیٹلائٹس کی تیاری میں نمایاں ترقی دیکھی گئی ہے، تاہم فنڈنگ اور ریاستی سرپرستی کے حوالے سے اب کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ یورپی حریف بڑی سطح پر سرکاری امداد حاصل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلاسگو کی نجی کمپنیوں نے اب تک بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ کم لاگت میں جدید سیٹلائٹ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن جب بات اربوں یورو کے بین الاقوامی منصوبوں کی آتی ہے تو سرکاری پشت پناہی کے بغیر مقابلے میں ٹکنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر یورپی ممالک اپنے خلائی پروگراموں کو براہ راست ریاستی گرانٹس اور پالیسیوں کے ذریعے تقویت دے رہے ہیں، جس سے وہاں کے صنعتی اداروں کو تحقیق اور ترقی کے لیے وسیع وسائل میسر ہیں۔ اس صورتحال میں گلاسگو کی صنعت کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے تاکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس ساری صورتحال نے اس پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا اہم اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے یا حکومت کو آگے بڑھ کر ان کی مالی معاونت کرنی چاہیے۔ گلاسگو کے ماہرین اور صنعت کار اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر برطانوی حکومت نے اس شعبے میں بروقت خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کی تو یہ شہر اپنی موجودہ برتری کھو سکتا ہے، اور یورپی ممالک اس خلائی دوڑ میں کہیں آگے نکل جائیں گے۔ آنے والے مہینوں میں پالیسی سازوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ گلاسگو کا سیٹلائٹ سیکٹر اس بین الاقوامی مسابقت میں کیسے زندہ رہتا ہے۔