Business
بچوں کے مستقبل کے لیے پینشن فنڈز میں بچت کا رجحان
برطانیہ میں والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے چھوٹے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے نام پر پنشن فنڈز میں باقاعدگی سے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن سے شروع کی جانے والی یہ بچت طویل مدت میں ایک بہت بڑی رقم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
برطانیہ سمیت دنیا بھر کے والدین میں اب ایک نیا اور منفرد مالیاتی رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس کے تحت وہ اپنے نوزائیدہ اور شیرخوار بچوں کے نام پر ریٹائرمنٹ فنڈز یا پینشن اکاؤنٹس کھول رہے ہیں۔ کئی خاندان اپنے بچوں کے مستقبل کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص رقم، مثلاً ایک سو پاؤنڈ، ان فنڈز میں جمع کروا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں اور انہیں اپنی جوانی یا بڑھاپے میں پنشن کی ضرورت پیش آنے میں کئی دہائیاں باقی ہیں، لیکن کم عمری سے شروع کی جانے والی سرمایہ کاری کے مرکب اثرات طویل مدت میں حیرت انگیز نتائج دے سکتے ہیں۔ مالیاتی مشیروں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمپاؤنڈ انٹرسٹ یا منافع پر ملنے والے منافع کی وجہ سے یہ چھوٹی چھوٹی ماہانہ بچتیں برسوں بعد ایک بہت بڑی اور وزنی مالیاتی پونجی میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جب بچے بڑے ہوں اور وہ اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں، تو ان کے پاس تعلیم، گھر یا دیگر بنیادی ضروریات کے لیے ایک مضبوط مالیاتی تکیہ موجود ہو۔ والدین کا خیال ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں روایتی بچت کھاتوں کے بجائے طویل مدتی پینشن فنڈز میں سرمایہ کاری زیادہ سودمند ثابت ہوتی ہے کیونکہ فنڈز میں موجود رقم کو شیئرز اور دیگر منافع بخش اثاثوں میں لگایا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی قدر بڑھاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مالیاتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنی طویل مدت کے لیے فنڈز کو لاک کرنا اور بچوں کے بالغ ہونے تک رسائی نہ ہونا ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے، تاہم بیشتر والدین اس طویل المدتی حکمت عملی کو اپنے بچوں کے مالی تحفظ کی ضمانت قرار دے رہے ہیں۔