World
سعودی عرب میں فیس بک پوسٹ پر سزائے موت، اپیل جاری
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی عرب سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی سزائے موت پر نظر ثانی کریں جسے فیس بک پر تبصرہ کرنے کی وجہ سے توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ انوجان سیواراسا کو اس کمنٹ کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اب ان کی زندگی کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنان نے سعودی عرب کی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو دی جانے والی سزائے موت پر نظرثانی کریں جسے محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس معاملے نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حلقوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے اور اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، انوجان سیواراسا نامی شخص کو فیس بک پر کیے گئے ایک تبصرے کی بنیاد پر توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت کی طرف سے اس جرم میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد سے ان کے حامیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی دوڑ دھوپ میں تیزی آ گئی ہے تاکہ اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو روکا جا سکے اور سزا میں تخفیف کی جائے۔
انسانی حقوق کے اداروں کا مؤقف ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے تبصروں کو اتنی سخت ترین سزاؤں کے ساتھ جوڑنا بین الاقوامی معیارِ انصاف کے خلاف ہے۔ ان تنظیموں نے سعودی حکام سے رحم کی اپیل کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی جان کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے، خاص طور پر ایسے مقدمات میں جہاں معاملہ آن لائن آراء اور تحریروں سے متعلق ہو۔
یہ مقدمہ ایک بار پھر دنیا بھر میں سوشل میڈیا قوانین، آن لائن اظہارِ رائے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی سزاؤں کے تنازعات کو لے کر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اس حوالے سے مسلسل متحرک ہیں اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے پر رحم دلانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست پر غور کریں گے۔