LIVE
Loading Breaking News...

ڈیپ فیک فراڈ اور مالیاتی دنیا میں اعتماد کا بحران

News Image
آرپ نامی عالمی فرم کے ایک ملازم نے مصنوعی ذہانت کے حامل ڈیپ فیک ویڈیو کال پر یقین کرتے ہوئے ڈھائی کروڑ ڈالر سے زائد رقم منتقل کر دی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے کس طرح کاروباری اور مالیاتی دنیا کے لیے اعتماد کے روایتی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آج کی جدید دنیا میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس نے سیکیورٹی اور ڈیجیٹل اعتماد کے حوالے سے سنگین خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک حیرت انگیز واقعے میں عالمی ڈیزائن فرم آرپ کے ایک مالیاتی ملازم نے ڈھائی کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم دھوکہ دہی کے ذریعے منتقل کر دی۔ یہ تمام کارروائی ایک ایسی ویڈیو کال کے ذریعے انجام دی گئی جس میں فرم کے سینئر ترین عہدیداروں کے مصنوعی یعنی ڈیپ فیک چہرے اور آوازیں استعمال کی گئی تھیں۔ متاثرہ ملازم کے مطابق کال پر موجود تمام افراد نہ صرف بالکل اصلی دکھائی دے رہے تھے بلکہ ان کی آوازیں اور بات کرنے کا انداز بھی ہو بہو اعلیٰ افسران جیسا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آج سائبر مجرم جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی فرد یا ادارے کو کتنی آسانی سے دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ڈھائی سو سال قبل جو معاشرتی اور معاشی نظام باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے، آج ٹیکنالوجی کی اس نئی لہر کے سامنے شدید آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اور آڈیو کی تیاری اب اتنی آسان اور نفاست سے کی جانے لگی ہے کہ انسانی آنکھ اور کان کے لیے اصل اور نقل میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی ادارے اور کارپوریٹ سیکٹر اب اپنے ملازمین کی تربیت اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر از سر نو غور کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک فراڈ کا یہ واقعہ محض ایک انفرادی جرم نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی گھنٹی ہے کہ مستقبل میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کس قدر بڑھ سکتے ہیں۔ اگر ایک بین الاقوامی اور مستند فرم کا تجربہ کار عملہ اس قسم کے فریب کا شکار ہو سکتا ہے تو عام کاروباری اداروں اور افراد کے لیے خطرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں اور تکنیکی اداروں کو مل کر ایسے سخت ضابطے اور حفاظتی اقدامات وضع کرنا ہوں گے جو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روک سکیں اور ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کی بحالی کو یقینی بنائیں۔