LIVE
Loading Breaking News...

ترکی اور پاکستان کی سعودی عرب میں فوری فورسز تعینات کرنے پر اتفاق

News Image
یمن کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ریاض میں ہنگامی مذاکرات منعقد ہوئے۔ مذاکرات کے بعد ترکی اور پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے فوری تعیناتی کی فورسز بھیجنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یمن میں جاری تنازعے اور لڑائی میں حالیہ شدت کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دارالحکومت ریاض میں ہونے والے ہنگامی اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں ترکی اور پاکستان نے سعودی عرب کی دفاعی مدد اور سلامتی کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔موجودہ زمینی حقائق کے مطابق یمن کے محاذ پر جاری جھڑپوں نے خلیجی خطے کی سکیورٹی کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی پس منظر میں، ترکی اور پاکستان نے باہمی مشاورت کے بعد سعودی عرب میں فوری تعیناتی کی فورسز (Rapid Deployment Forces) بھیجنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ریاض میں ہونے والی ان ہنگامی بات چیت میں سکیورٹی اور دفاع سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کی قیادت کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور اس کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ خطے کے مجموعی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مشترکہ حکمت عملی کے تحت، فوجی دستے جلد ہی سعودی عرب پہنچیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جا سکے اور خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔