LIVE
Loading Breaking News...

مراکش میں صحافیوں کی جاسوسی، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیا انکشاف

News Image
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مراکش پر صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی اور جاسوسی کے استعمال کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ ایک وِسل بلور کے بیانات کی روشنی میں یہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے خطے میں آزادی صحافت پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مراکش کے حوالے سے ایک بار پھر تشویشناک انکشافات کیے ہیں، جس کے مطابق حکومت صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے جدید نگرانی کے آلات اور جاسوسی کی تکنیک کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ تازہ دعویٰ ایک نامعلوم وِسل بلور کے بیانات پر مبنی ہے، جس نے ریاستی مشینری کی جانب سے میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے خفیہ حربوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ مراکشی صحافیوں نے طویل عرصے سے اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے انہیں مسلسل نگرانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس نوعیت کی ڈیجیٹل نگرانی کا بنیادی مقصد آزاد خیال صحافیوں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی ذاتی زندگی اور ان کے مواصلاتی ذرائع میں مداخلت بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ماضی میں بھی مراکش پر پیگاسوس جیسے جاسوس سافٹ ویئر کے استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جنہیں حکام کی جانب سے اکثر مسترد کیا جاتا ہے لیکن تازہ شواہد نے اس بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مراکش میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ آزادی اظہارِ رائے اور آزاد پریس کے بغیر کسی بھی معاشرے میں شفافیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ وِسل بلور کی جانب سے فراہم کردہ نئی معلومات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ بین الاقوامی ادارے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تاکہ ملوث افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس صورتحال نے مراکش میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز میں شدید خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ نگرانی کے ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے ان کے لیے خبروں کی آزادانہ ترسیل انتہائی مشکل ہو گئی ہے، کیونکہ ہر وقت گرفتاری یا انتقامی کارروائی کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی سطح پر اس مسئلے کا نوٹس نہ لیا گیا تو خطے میں سچی اور آزاد صحافت کا وجود مزید خطرے میں پڑ جائے گا۔