LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا کنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکلنے کا انتباہ

News Image
انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ معروف مصنوعی ذہانت کمپنیاں اپنے ہی تیار کردہ ماڈلز پر مکمل قابو نہیں رکھتی ہیں۔ یہ بیان ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا کے حوالے سے ایک اور سنگین انتباہ سامنے آیا ہے۔ انتھروپک (Anthropic) کے سابق محقق جیکب کوکسن نے خبردار کیا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بنانے والی کمپنیاں خود اس بات سے ناواقف ہیں اور ان سسٹمز پر مکمل کنٹرول نہیں رکھ پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسی جیسی ٹیکنالوجی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اس کا دائرہ کار انسانوں کی گرفت سے باہر نکلتا جا رہا ہے۔ جیکب کوکسن کے مطابق، اے آئی لیبارٹریز میں کام کرنے والے سائنسدان اور انجینئرز بھی ان ماڈلز کے اندرونی مکینزم اور ان کے مستقبل کے فیصلوں کی مکمل پیشگوئی کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ماڈلز اس قدر تیزی سے سیکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں کے نمونے بناتے ہیں کہ بنانے والے بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال سکیورٹی اور اخلاقیات کے حوالے سے بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے، بالخصوص جب اے آئی کو خودمختار فیصلوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر سخت ضابطہ اخلاق اور حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ ٹیکنالوجی انسانی معاشرے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔ دنیا بھر کے محققین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی مانیٹرنگ اور حفاظتی پروٹوکولز کو بھی اتنا ہی مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔