Health
سن کریم کی قیمت اور معیار: کیا مہنگی سن اسکرین بہتر ہوتی ہے؟
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سن کریم کی زیادہ قیمت ہمیشہ بہتر تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتی۔ سپر مارکیٹ کے سستے برانڈز بھی مہنگے ڈیزائنر پروڈکٹس جتنی ہی مؤثر طریقے سے جلد کو بچا سکتے ہیں۔
گرمیوں کے موسم میں سورج کی خطرناک شعاعوں سے جلد کو بچانے کے لیے سن کریم کا استعمال انتہائی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، جہاں ایک طرف صرف چند روپے میں سپر مارکیٹ کے اپنے برانڈز دستیاب ہیں، وہیں دوسری طرف بعض ڈیزائنر اور لگژری بوتلوں کی قیمتیں سو پاؤنڈز سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں صارفین اکثر اس کشمکش کا شکار رہتے ہیں کہ آیا مہنگے برانڈز خریدنا واقعی زیادہ فائدہ مند ہے یا سستے متبادل بھی وہی کام انجام دے سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس مباحثے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قیمت کا زیادہ ہونا اس بات کی ضمانت ہرگز نہیں ہے کہ پروڈکٹ زیادہ بہتر تحفظ فراہم کرے گی۔
طبی ماہرین اور ڈারماٹولوجسٹس کے مطابق تمام سن اسکرینز کو مارکیٹ میں فروخت ہونے سے پہلے سخت حفاظتی اور معیار کے ضابطوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ چاہے پروڈکٹ سستی ہو یا مہنگی، اس پر درج ایس پی ایف (SPF) اور الٹرا وائلٹ تحفظ کے پیمانے بنیادی طور پر اسی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہت سے سستے سپر مارکیٹ برانڈز نے مہنگے ترین برانڈز کے مقابلے میں لیبارٹری ٹیسٹس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو صرف نامور برانڈ کا لیبل دیکھ کر ہزاروں روپے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اصل اہمیت پروڈکٹ کے باقاعدہ اور درست استعمال کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سن کریم کے انتخاب میں قیمت سے زیادہ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ آپ کی جلد کی قسم کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ سن کریم کے زیادہ مؤثر ہونے کا دارمدار اس کے درست استعمال پر بھی ہے، جیسے کہ سورج میں جانے سے بیس منٹ پہلے اسے لگانا اور ہر دو گھنٹے بعد دوبارہ اپلائی کرنا۔ اگر مہنگی سن کریم خریدی جائے لیکن اسے مناسب مقدار میں نہ لگایا جائے تو وہ مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ لہذا، صارفین کو چاہیے کہ وہ نام نہاد پرتعیش اشتہارات کے دھوکے میں آنے کے بجائے سائنسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے موزوں اور سستی پروڈکٹ کا انتخاب کریں۔