LIVE
Loading Breaking News...

مہماتِ فریب: حکومت کے اہم اداروں کی جعلی ویب سائٹس کا انکشاف

News Image
نیشنل سائبر سیکیورٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم قومی اداروں کے نام سے بنائی گئی مشکوک فشنگ ڈومینز کا انکشاف کیا ہے۔ این سی ای آر ٹی نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ نجی معلومات غیر مصدقہ ویب سائٹس پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
نیشنل سائبر سیکیورٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متعدد مشکوک فشنگ ڈومینز بنائی گئی ہیں جو اہم قومی اداروں کے نام کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ ان جعلی پلیٹ فارمز کا بنیادی مقصد شہریوں سے حساس اور ذاتی معلومات چوری کرنا ہے۔ این سی ای آر ٹی کے تھریٹ انٹیلی جنس سینٹر کی جانب سے اتوار کے روز یہ انکشاف کیا گیا کہ حکومت اور پبلک سیکٹر کے کئی اداروں کی نقل کرتے ہوئے یہ مشکوک ڈومینز فعال پائی گئیں۔ شناخت کی جانے والی ان جعلی ڈومینز میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے نام سے ایک جعلی سیکیور لاگ ان ڈومین بھی شامل ہے، جب کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ناموں کا غلط استعمال کرنے والی فشنگ ویب سائٹس بھی پکڑی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے نام سے بھی جعلی ڈومینز کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ پنجاب سیف سٹیز کا لاگ ان صفحہ بھی اس جعل سازی کی زد میں آیا۔ این سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ یہ مشکوک فشنگ ڈومینز تاحال فعال ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے حملے صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاکہ ان کے لاگ ان کریڈینشلز اور دیگر ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ این سی ای آر ٹی نے تمام شہریوں اور سرکاری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ ذرائع سے موصول ہونے والے لنکس اور ویب سائٹس تک رسائی کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کسی بھی قسم کی ذاتی معلومات درج کرنے سے پہلے متعلقہ ویب سائٹ کی صداقت کو ضرور جانچ لیا جائے۔ ایک الگ ایڈوائزری میں، این سی ای آر ٹی نے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (جن اے آئی) کے محفوظ استعمال کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ ایجنسی نے مشاہدہ کیا ہے کہ پبلک اے آئی چیٹ بوٹس، کوڈنگ اسسٹنٹس اور براؤزر ایکسٹینشنز کے تیزی سے فروغ سے تنظیموں میں ڈیٹا گورننس کے نئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ غیر مجاز یا بے قابو اے آئی ٹولز کا استعمال حساس معلومات، انٹلیکچوئل پراپرٹی اور سورس کوڈ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس لیے تمام تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہاں منظور شدہ اے آئی ٹولز کی فہرست تیار کریں اور حساس ڈیٹا کو پبلک اے آئی پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے سختی سے گریز کریں۔