Pakistan
عمران خان کے بغیر حکومت سے مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا موقف
پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ قید بانی چیئرمین عمران خان کی شمولیت کے بغیر حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کا کوئی امکان نہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حکمت عملی اپنانے سے گریز کیا۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک پارٹی کے بانی اور قید سابق وزیراعظم عمران خان کو اس پورے ڈائیلاگ کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ان وجوہات پر روشنی ڈالی جن کی بنیاد پر اختتام ہفتہ پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال میں صرف عمران خان ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو ریاست اور قوم کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے انتہائی سنجیدگی اور خلوص نیت کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لیا تھا اور ان کی جماعت کی یہ خواہش تھی کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے درست کیا جائے۔ تاہم، مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بنی کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کسی بھی قسم کی مشترکہ اور اجتماعی حکمت عملی اپنانے پر آمادہ نظر نہیں آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر حکومتی اقدام کی بلا چوں چرا حمایت کرے، جبکہ حزب اختلاف کا اصرار تھا کہ صوبائی اسمبلی کے جرگے کی سفارشات اور قبائلی زعماء کی آراء کو بھی اہمیت دی جائے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق، انہوں نے اصرار کیا تھا کہ معاہدے میں اس بات کو تحریری طور پر شامل کیا جائے کہ دہشت گردی کے معاملے پر تمام فیصلے باہم اتفاق رائے سے کیے جائیں گے، لیکن حکومتی وفد نے اس کو تحریری شکل دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اپوزیشن کا یہ بھی شکوہ تھا کہ انہیں پارٹی بانی عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی تاکہ ان سے مشاورت کی جا سکے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی ڈیڈلاک مزید گہرا ہو گیا۔ دوسری جانب، وفاقی وزراء نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی قیادت پر ڈالا اور ان پر دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سواتی نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات پر اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جامع اور پارلیمانی سفارشات تیار کرنی چاہئیں تاکہ عوام کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔