World
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، پاکستان کا مؤقف سامنے آگیا
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کو شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مزید مستقل اراکین کا اضافہ مسائل کا حل نہیں بلکہ خرابی کو بڑھائے گا۔
واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کو شامل کرنے کی سخت مخالفت کی ہے اور اس کے بجائے 15 رکنی ادارے میں منتخب اور غیر مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور آئندہ ہفتے خارجہ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے والے سفیر عاصم افتخار احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سلامتی کونسل کے موجودہ امن و سیکیورٹی کے منظر نامے میں مستقل اراکین کے کردار پر بڑھتی ہوئی تنقید نے اس بات کو تقویت دی ہے کہ کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنایا جائے۔ عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے فرد یا ملک کو مستقل رکنیت دینا مسئلے کو مزید گھمبیر کرے گا، کیونکہ کوئی بھی مسئلہ خود اس کا حل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان، 'یونائٹنگ فار کنسینس' گروپ اور دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسی اصلاح شدہ کونسل کی وکالت کرتا ہے جس میں وقتاً فوقتاً ہونے والے انتخابات اور گردش کی بنیاد پر زیادہ منتخب اراکین اور درمیانی مدت کی نشستیں ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور دیگر ممالک بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور رکن ممالک کو استحقاق اور مستقل حیثیت کے بغیر یہ ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ پاکستان کی 2025 سے 2026 تک کی مدت سلامتی کونسل میں اس کی آٹھویں مدت تھی، جبکہ عاصم افتخار کے لیے یہ ان کی تیسری مسلسل ذمہ داری تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل، امن عامہ کے قیام، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو اپنی اہم ترجیحات قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مدت گہرے جغرافیائی سیاسی تنازعات کے پس منظر میں گزری، جس میں مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ چار روزہ فوجی محاذ آرائی بھی شامل تھی، لیکن اس بحران نے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے اس عزم کو مزید اجاگر کیا کہ سفارت کاری تنازعات کو بڑھنے سے روکنے میں اہم ترین ہے۔ عاصم افتخار نے جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا ذکر کرتے ہوئے اسے اپنی مدت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں بھی فلسطین کے لیے مؤثر آواز اٹھائی اور غزہ میں جامع امن کے لیے قراردادوں کی حمایت کی۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کو مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اس کے عادلانہ تصفیے کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا۔