LIVE
Loading Breaking News...

سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملے، یمن جنگ میں شدت

News Image
یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں جن میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ریاض: یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، اور پیر کے روز ہونے والے حملوں میں سعودی عرب کے دو اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ خطے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثی گروپ کے درمیان جاری اس طویل تنازع میں حالیہ شدت نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس سے قبل حوثی باغیوں نے دارالحکومت ریاض اور خُریس میں موجود سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بھی اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں لانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر تمام نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے دوران کچھ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں اور فضائی آپریشنز کو عارضی طور پر متاثر ہونا پڑا۔ دوسری جانب، اس کشیدہ صورتحال پر بین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بھی کھلا ہے تاکہ خطے میں جاری اس تباہ کن جنگ کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔