LIVE
Loading Breaking News...

قرون وسطیٰ میں طاعون کا علاج اور سائبیریا کی حالیہ خبر

News Image
تاریخی تناظر میں قرون وسطیٰ کے لوگوں نے مہلک نمونک طاعون کا سامنا طب اور مذہبی رسومات کے ذریعے کیا۔ حالیہ خبروں کے مطابق سائبیریا کی ایک لیبارٹری میں ملازم کی ہلاکت کے بعد حفاظتی اقدامات اور قرنطینہ نافذ کر دیے گئے ہیں۔
قرون وسطیٰ کے دوران دنیا کو کئی طرح کی خطرناک وبائی امراض کا سامنا کرنا پڑا جن میں نمونک طاعون انتہائی مہلک تصور کیا جاتا تھا۔ اس دور میں جب سائنسی ترقی آج کی طرح محدود تھی، لوگ بیماریوں کے علاج کے لیے بیک وقت طب اور مذہبی عقائد دونوں پر انحصار کرتے تھے۔ طبی ماہرین جڑی بوٹیوں اور روایتی طریقوں سے علامات کا علاج کرنے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ مذہبی راہنما اس آفت کو غضب الٰہی قرار دے کر دعاؤں اور توبہ کا سہارا لیتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس وباء نے معاشروں پر گہرے اثرات چھوڑے اور انسانوں کو طاعون جیسی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے نئے راستے سکھائے۔ دوسری طرف، جدید دور میں بھی طاعون کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ حالیہ دنوں میں سائبیریا کی ایک انسداد طاعون لیبارٹری میں کام کرنے والے ایک کارکن کی ہلاکت نے دنیا بھر کی توجہ اس خطرناک بیماری کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ اس واقعے کے بعد روسی حکام نے فوری طور پر درجنوں افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے اور قریباً دو سو افراد کو سخت طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے بھی اس واقعے پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور روس کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ لیبارٹری کے ماحول میں اس طرح کے خطرناک جراثیم کا پھیلنا ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اگرچہ اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویات موجود ہیں، تاہم قرون وسطیٰ کی طرح آج بھی احتیاطی تدابیر اور بروقت قرنطینہ کسی بھی بڑی وبا کو روکنے کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے صدیاں پہلے تھے۔ اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر طبی برادری کو خبردار کر دیا ہے کہ متعدی امراض کے خلاف تحقیق اور بائیو سیکیورٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔