LIVE
Loading Breaking News...

راہول گاندھی پولیس کی حراست میں، بھارت میں انتخابی کمیشن کے خلاف احتجاج

News Image
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے مطالبے پر نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس رہنماؤں اور پولیس کے درمیان سخت جھڑپیں بھی ہوئیں۔
نئی دہلی میں بھارتی اپوزیشن کے سرکردہ رہنما اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کو چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے نکالے گئے ایک احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔ بھارتی ٹی وی چینلز کے مطابق یہ احتجاجی مظاہرہ دارالحکومت میں کیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے سیکڑوں کارکنان اور اراکین پارلیمنٹ نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج کا مقصد موجودہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھانا اور چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرنا تھا۔ مارچ کے آغاز پر ہی پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے پولیس اور کانگریس کارکنان کے درمیان شدید ہاتھ پائی اور تلخ کلامی ہوئی۔ راہول گاندھی نے اس موقع پر پولیس کے رویے پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس انہیں کیوں روک رہی ہے اور دھمکیاں کیوں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مارچ میں تین سو سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز شامل ہیں جو جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا نعرہ تھا کہ کٹھ پتلی کو تو جانا ہی ہوگا لیکن اس کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈ کو بھی کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اس سیاسی ہلچل کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی حکومت اور انتخابی اداروں پر شدید تنقید کی۔ ادھر نوین پٹنائک کی جماعت بیجو جنتا دَل (BJD) کے حامیوں اور رہنماؤں نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس سے اس احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ تنازع بھارت کی مرکزی سیاست میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر انتخابی شفافیت اور حکومتی اداروں کی جانبداری کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ان کا یہ احتجاجی سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ واقعے کے بعد نئی دہلی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سیاسی کشیدگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔