World
فرانس میں طلباء اور والدین کا بڑا احتجاج، پولیس کے ساتھ کشیدگی
فرانس میں طلباء کے احتجاج کا سلسلہ تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے جس میں والدین اور مزدور یونینز بھی شامل ہو گئی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر آواز اٹھانا چاہتے ہیں نہ کہ آنسو گیس کا سامنا کرنا۔
فرانس میں تعلیمی اصلاحات اور دیگر حکومتی پالیسیوں کے خلاف طلباء کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جو اب ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس احتجاج کا سلسلہ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور اس میں طلباء کے ساتھ ساتھ والدین اور بڑی مزدور یونینز بھی شامل ہو گئی ہیں۔ پیرس سمیت ملک کے کئی شہروں میں دواسازوں، اساتذہ اور عام شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے تاکہ نوجوان نسل کے مطالبات کی حمایت کی جا سکے۔ مظاہرین کا نعرہ ہے کہ وہ اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں نہ کہ پولیس کے تشدد اور آنسو گیس کا سامنا کرنا۔ احتجاج کے دوران پیش آنے والے مختلف پُرتشدد واقعات میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایک نوعمر طبع علم کا ہاتھ دھماکہ خیز مواد یا اس جیسی کسی شے سے اڑ گیا، جس کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس حادثے نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، اور اب سول سوسائٹی کی جانب سے پولیس کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اسکولوں اور کالجوں کے باہر بڑھتے ہوئے اجتماعات نے نظام کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر طلباء اور یونینز کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو یہ مظاہرے پورے ملک میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کو اس وقت شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر مزید ہڑتالوں اور مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے۔