Business
ستمبر میں خلیجی تیل کی برآمدات میں اضافہ، جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں خلیجی خطے سے تیل کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو جنگ سے قبل کی شرح کا اکیاسی فیصد بنتا ہے۔ اس بحالی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں حالات تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔
بین الاقوامی منڈی کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں خلیجی ممالک سے تیل کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور برآمدات اوسطاً جنگ سے پہلے کی شرح کے اکیاسی فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے کو عالمی منڈی میں توانائی کی رسد کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ سے برآمدات میں اضافے اور جی سیون ممالک کے ذخائر کی دستیابی نے منڈی میں موجود رسد کے شدید خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ تاہم، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت مختلف مالیاتی اداروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حمل ابھی بھی معمول کے مطابق بحال نہیں ہوئی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطے میں تناؤ یا جنگی صورتحال مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ خلیج میں بحری ٹریفک اور سلامتی کے حوالے سے اب بھی کئی طرح کے سوالات موجود ہیں، جن پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی سکیورٹی پر ہوگا۔ اگر برآمدات کا یہ موجودہ تسلسل برقرار رہتا ہے اور اس میں مزید بہتری آتی ہے، تو عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔