Health
بچوں کی نگہداشت اور غیر ضروری گود لینے کے خدشات
ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نگہداشت کے نظام میں آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافے سے غیر ضروری گود لینے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ مناسب مدد اور معاونت فراہم کی جائے تو بہت سے بچوں کو سرکاری نگہداشت میں دینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
برطانیہ میں نگہداشت کے عمل (کئیر پروسیڈنگز) کے تحت لائے جانے والے شیر خوار بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رحجان کے نتیجے میں غیر ضروری گود لینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ خاندانوں کے لیے ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ بی بی سی کے تحقیقی پروگرام 'فائل آن فور' کو دیئے گئے انٹرویوز میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر ضرورت مند خاندانوں کو بروقت اور بہتر معاونت فراہم کی جائے تو بہت سے بچوں کو سرکاری نگہداشت کے نظام میں جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، بہت سے والدین ایسے ہیں جو غربت، ذہنی صحت کے مسائل یا مناسب مشاورتی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو فوری طور پر ریاست کی طرف سے رہنمائی اور مالی یا سماجی مدد فراہم کرنے کی بجائے بچوں کو ان سے الگ کرنے کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نہ صرف والدین بلکہ بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے، اور خاندانوں کو جوڑنے کے متبادل طریقوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
چائلڈ ویلفیئر سے وابستہ ماہرین اور سوشل ورکرز نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نگہداشت کے موجودہ نظام کا از سر نو جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گود لینے کے عمل کو آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، اس سے پہلے خاندانوں کو بچانے اور مضبوط کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اگر مناسب معاونتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے تو بہت سے بچوں کو اپنے اصل والدین کے ساتھ محفوظ ماحول میں رہنے کا موقع مل سکتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں مستقل طور پر کسی دوسرے خاندان کے حوالے کر دیا جائے۔