LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں جنگ کے دوران بچوں کا خطرناک تعلیمی سفر

News Image
یمن کے شہر تعز میں بچوں، اساتذہ اور متاثرہ خاندانوں نے طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنے کی داستان سنائی ہے۔ یہ معصوم طلباء سنائیپرز اور بمباری کے خطرات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ کٹھن سفر طے کرتے ہیں۔
یمن کے محصور اور جنگ زدہ شہر تعز میں تعلیم حاصل کرنے کا عمل کسی جوکھم سے کم نہیں ہے۔ بی بی سی ورلڈ سروس کو اس انتہائی حساس علاقے تک نایاب رسائی حاصل ہوئی ہے، جہاں کے معصوم بچوں، اساتذہ اور متاثرہ خاندانوں نے اس بات کی عکاسی کی ہے کہ کس طرح وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ تعز کا یہ علاقہ طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا شکار ہے اور فرنٹ لائن کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہاں کے باشندے مسلسل خوف و ہراس کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسکول جانے والے یہ کم عمر بچے راستے میں سنائیپرز کے نشانے اور مارٹر گولوں کی آوازوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ ان کے لیے تعلیم کا حصول کوئی معمولی معمول نہیں بلکہ ایک روزانہ کا معجزہ بن چکا ہے۔ والدین انتہائی پریشانی کے عالم میں اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرتے ہیں، اس خدشے کے ساتھ کہ شاید ان کا بچہ خیریت سے واپس لوٹ سکے گا یا نہیں۔ اس کے باوجود، بچوں کے اندر علم حاصل کرنے کی لگن اور جوش میں ذرا برابر بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یمنی عوام اس تباہ کن صورتحال میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ مقامی اساتذہ بھی انتہائی کسمپرسی اور محدود وسائل کے باوجود تعلیمی نظام کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اسکولوں کی عمارات کو بمباری کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا ہے اور اکثر کلاسیں کھلے آسمان تلے یا منہدم دیواروں کے ملبے کے درمیان لگائی جاتی ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے، لیکن اسکول بند کر دینا ان بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر خطرات کے باوجود تدریسی عمل مسلسل جاری رکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یمن کے اس محصور خطے میں معصوم بچوں کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسکول کے بچوں اور تعلیمی اداروں پر اس قسم کے جنگی اثرات نے دنیا بھر کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک یمن میں دیرپا امن قائم نہیں ہوتا، اس طرح کے خطرات بچوں کی زندگیوں اور ان کے روشن مستقبل کو نگلتے رہیں گے، اس لیے فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی کی طرف توجہ دینی چاہئے۔