LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی آئل ریفائنری کی جانب سے زہریلی آلودگی کے قوانین کی خلاف ورزی

News Image
برطانیہ کی ایک آئل ریفائنری کی جانب سے زہریلی آلودگی کے قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ریفائنری نے متعدد بار مقررہ حد سے زیادہ زہریلا مواد مقامی دریاؤں میں خارج کیا۔
برطانیہ میں ماحول دشمن سرگرمیوں کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں ایک اہم آئل ریفائنری نے دجنوں بار زہریلی آلودگی کی قانونی حدوں کو توڑا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ شیئر کی گئی سرکاری دستاویزات سے یہ تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ریفائنری کی جانب سے حفاظتی اور ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ان دستاویزات کے مطابق اس صنعتی ادارے نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کئی مرتبہ مضرِ صحت کیمیکلز اور زہریلا فضلہ براہ راست مقامی دریاؤں اور ماحولیاتی طور پر محفوظ علاقوں میں چھوڑا۔ ماہرینِ ماحولیات نے اس عمل کو مقامی آبی حیات اور قدرتی ماحول کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوامی حلقوں کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی نہ صرف قانون شکنی کے زمرے میں آتی ہے بلکہ یہ انسانی صحت اور ماحولیاتی توازن کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ متعلقہ اداروں اور حکام سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری اور سخت نوٹس لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ کوئی بھی صنعتی ادارہ اس قسم کی غفلت کا مرتکب نہ ہو۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور ریفائنری کے ذمہ داران کے خلاف کڑے قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔