LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ لینڈ کا پہلا اے آئی ٹیچر اور طلباء کے لیے اہم انتباہ

News Image
اسکاٹ لینڈ میں مصنوعی ذہانت کے پہلے مضمون کے استاد جیمی لیکاک نے طلباء پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی ٹیکنالوجی کے خطرات اور فوائد دونوں کو سمجھیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ہر بات پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
اسکاٹ لینڈ میں تعلیمی شعبے کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے درمیان ایک منفرد پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے پہلے اے آئی مضمون کے استاد جیمی لیکاک نے طلباء کو ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب سے فراہم کردہ ہر معلومات پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور کے اس جدید طوفان میں طلبا کو یہ سیکھنا ہوگا کہ جدید ٹیکنالوجی پر کس حد تک انحصار کیا جانا چاہیے۔ جیمی لیکاک کا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسکولوں کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو مصنوعی ذہانت کے نہ صرف روشن پہلوئوں اور مواقع سے روشناس کرائیں بلکہ اس کے ساتھ جڑے ہوئے سنگین خطرات سے بھی پوری طرح آگاہ کریں۔ جدید دنیا میں اے آئی کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اس کے اندھے استعمال سے طلباء کی تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا بھی یہی ماننا ہے کہ کلاس رومز کے اندر مصنوعی ذہانت کو ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ انسانی استاد اور سوچ کا متبادل۔ جیمی لیکاک کی یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اے آئی چیٹ بوٹس اور دیگر سسٹمز کو تعلیمی اداروں میں تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور ڈیجیٹل لٹریسی کا حصول اب ناگزیر ہو چکا ہے۔