World
معذور خاتون کا ٹرین سے رینگ کر اترنے کا واقعہ اور عوامی ردعمل
برطانیہ میں ایک معذور خاتون کو ریلوے عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ٹرین سے باہر نکلنے کے لیے اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگنا پڑا۔ متاثرہ خاتون کی والدہ نے اس واقعے کو انتہائی اذیت ناک اور بے بسی کا لمحہ قرار دیا ہے۔
لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق معذور افراد کے سفر کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جب ایک معذور خاتون کو ٹرین سے نیچے اترنے کے لیے انتہائی کٹھن اور تذلیل آمیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے دوران خاتون کو مدد نہ ملنے پر مجبورا اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگ کر ٹرین سے باہر آنا پڑا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے نہ صرف مسافروں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر میں معذور افراد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام پر بھی شدید تنقید کا آغاز ہو گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس پورے واقعے کو انتہائی تکلیف دہ اور دلخراش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماں کی حیثیت سے اپنی بیٹی کو اس طرح بے بسی کی حالت میں دیکھنا انتہائی ٹراماٹک تھا اور وہ چاہ کر بھی اس لمحے کچھ نہیں کر سکتیں کیونکہ وہاں عملے کی طرف سے کوئی مناسب سہولت یا مدد موجود نہیں تھی۔ انہوں نے ریلوے انتظامیہ کے کردار پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں بھی معذور افراد کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جانا افسوسناک ہے۔ یہ واقعہ پبلک ٹرانسپورٹ کے اداروں کی کارکردگی اور ان کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ سماجی حلقوں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریلوے حکام سے فوری انکوائری اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ تمام ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر وہیل چیئر ریمپ اور عملے کی تربیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کو ایسی ذلت آمیز صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔