World
فورت ہڈ حملہ آور: امریکی فوج میں فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت
فورت ہڈ فوجی اڈے پر حملے میں 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے والے نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی فوج کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی مجرم کو اس طریقے سے سزائے موت دی جائے گی۔
امریکی فوجی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور نادر فیصلے کے تحت، فورت ہڈ کے نام نہاد حملہ آور نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ دوسرا عالمی جنگ کے بعد سے امریکی فوج میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا جہاں کسی مجرم کو موت کی سزا دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ کا استعمال کیا جائے گا۔ نضال ملک حسن نے ٹیکساس میں واقع فورت ہڈ فوجی اڈے پر خونی حملہ کیا تھا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دلخراش واقعے میں 13 نہتے فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دیگر 32 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ یہ امریکی ملٹری ہسٹری میں کسی بھی غیر جنگی علاقے میں ہونے والا سب سے بڑا اور ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جاتا ہے، جس پر امریکی جوڈیشل اور فوجی نظام نے سخت ترین ردعمل ظاہر کیا تھا۔ واقعے کے بعد مجرم کے خلاف طویل قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے تمام مراحل طے ہونے کے بعد اب اس کے انجام کا وقت قریب آ گیا ہے۔ امریکی قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں سزائے موت کے نفاذ کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں، تاہم فائرنگ اسکواڈ کا انتخاب اس کیس کی سنگین نوعیت اور حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس فیصلے سے متاثرہ خاندانوں اور عسکری حلقوں میں انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور فوجی قوانین کے حوالے سے بھی اس فیصلے پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔