LIVE
Loading Breaking News...

یونان میں مہاجرین ریسکیو گروپ کے خلاف مقدمہ اور بانی کا ردعمل

News Image
یونان میں مہاجرین کو بچانے والی فلاحی تنظیم کے بانی ٹومی اولسن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ٹومی اولسن نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یونان میں مہاجرین کی امداد کرنے والی معروف تنظیم 'ایجیئن بوٹ رپورٹ' کے بانی ٹومی اولسن نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ہر حال میں قانون کی حکمرانی کا دفاع جاری رکھیں گے۔ یونان کی جانب سے ان کی تنظیم اور ان کے ذاتی طرزِ عمل کو ہدف بناتے ہوئے ایک عدالتی مقدمے کا آغاز کیا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹومی اولسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فلاحی مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یونانی حکام کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں انہیں ان کے انسانی ہمدردی کے کاموں سے نہیں روک سکتیں۔ واضح رہے کہ ایجیئن بوٹ رپورٹ ایجیئن سمندر میں مشکل میں پھنسے ہوئے مہاجرین کی کشتیوں کی نشاندہی کرنے اور ان کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری مدد فراہم کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ اس تنظیم نے ماضی میں یونانی ساحلی محافظوں کے کئی ایسے اقدامات کو بے نقاب کیا تھا جن پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے سوالات اٹھائے تھے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یونانی حکومت کی جانب سے اس مقدمے کا مقصد فلاحی کارکنوں کو خاموش کرانا اور مہاجرین کے حقوق کی آواز کو دبانا ہے۔ ٹومی اولسن کے حامیوں اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانونی کارروائی کو سیاسی انتقام اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں سمندر میں ڈوبنے والے انسانوں کی جان بچانا کوئی جرم نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے عین مطابق ہے۔ دوسری جانب یونانی حکام اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں قانونی حدود سے تجاوز کرتی ہیں اور مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل میں سہولت کاری کا سبب بنتی ہیں۔ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں مہاجرین کے داخلے اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے سیاسی اور سماجی کشمکش عروج پر ہے۔ ٹومی اولسن کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور انہیں یقین ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور مہاجرین کی امداد کرنے والے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔