World
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی پر اسرائیلی حملے
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ حملوں کے دوران املاک کو نذر آتش کرنے اور فصلیں چرانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے روایتی سیزن کا آغاز اس سال شدید تشویش اور خوف کے ماحول میں ہوا ہے، جہاں فلسطینی کسانوں کو سخت گیر اسرائیلی آباد کاروں اور قابض فوجی فورسز کی طرف سے منظم حملوں کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق زیتون کے باغات میں کام کرنے والے کسانوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کی قیمتی فصلیں بھی زبردستی چھین لی جاتی ہیں اور کسانوں کو ان کی اپنی زمینوں تک رسائی سے روکا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ متعدد مقامات پر زرعی املاک اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے جبکہ زیتون کے صدیوں پرانے درختوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے جو کہ فلسطینی معیشت اور ثقافت کا ایک اہم ترین حصہ ہیں۔ قابض فورسز کی مبینہ سرپرستی یا خاموشی کی وجہ سے ان پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے مقامی آبادی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
زیتون کی کٹائی کا موسم فلسطینی خاندانوں کے لیے نہ صرف معاشی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے بلکہ یہ ان کی زمینوں کے ساتھ گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی علامت بھی ہے۔ تاہم اسرائیلی مظالم اور حملوں کی وجہ سے اس سال کسانوں کے لیے اپنی فصل سمیٹنا انتہائی خطرناک اور مشکل ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی کسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور قابض فورسز کے تشدد کو روکا جا سکے۔