World
جنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے ڈی ایم زیڈ مائن دھماکے پر معافی کا مطالبہ
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی ڈیمارکیشن لائن کے جنوبی حصے سے بارودی سرنگیں ہٹائے۔ سیول اس دھماکے کے معاملے پر شمالی کوریا سے معافی مانگنے کے لیے مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
سیول: جنوبی کوریا کی حکومت نے ایک بار پھر شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ کورین ڈی ملٹرائزڈ زون (ڈی ایم زیڈ) کے قریب ہونے والے مائن دھماکے اور اشتعال انگیزی کے بعد سنجیدہ اقدامات کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کو اس واقعے پر نہ صرف معافی مانگنی چاہیے بلکہ اس بات کی بھی ضمانت دینی چاہیے کہ مستقبل میں اس طرح کی کارروائیوں کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ اس تنازعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جنوبی کوریا کی جانب سے پیانگ یانگ کو سخت پیغام دیا گیا ہے کہ وہ فوجی ڈیمارکیشن لائن کے جنوبی جانب نصب کی جانے والی دیگر تمام بارودی سرنگوں کو فوری طور پر ہٹائے۔ سیول انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس قسم کے اقدامات خطے کے امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور ان سے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ جنوبی کوریا کے عسکری اور سیاسی حلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کون سے سفارتی اور دفاعی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں۔
واضح رہے کہ ڈی ایم زیڈ کے علاقے میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو چکی ہے۔ جنوبی کوریا نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ مبصرین کے مطابق اگر شمالی کوریا نے اس مطالبات پر مثبت جواب نہ دیا تو سیول کی طرف سے مزید سخت پابندیوں اور جوابی اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جس سے کورین جزیرہ نما میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔