LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں ملبے سے کتابیں نکال کر تعلیم بچانے کی انوکھی مہم

News Image
غزہ میں تعلیمی اداروں کی تباہی کے باوجود ایک مقامی خاتون نوین الغربلی نے ملبے سے کتابیں نکال کر ایک عارضی بک اسٹال قائم کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جنگ زدہ علاقے میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
غزہ میں جاری شدید تباہی اور جنگ کے دوران جہاں تعلیمی ادارے، اسکول اور یونیورسٹیاں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، وہیں ایک مقامی عزم و حوصلہ رکھنے والی خاتون نے علم کی شمع کو جلائے رکھنے کا انوکھا اور قابل تحسین طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ نوین الغربلی نامی اس خاتون نے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے محفوظ بچ جانے والی کتابیں چن کر ایک عارضی بک اسٹال سجا لیا ہے، جس کا مقصد بچوں اور نوجوانوں میں پڑھنے کی لگن کو ختم ہونے سے بچانا ہے۔ اس جرات مندانہ قدم نے جنگ کے سائے میں جینے والے لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ اس عارضی بک اسٹال پر رکھی گئی کتابیں اس بات کی عکاس ہیں کہ جنگ چاہے کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، انسان کے حوصلے اور علم کی پیاس کو شکست نہیں دے سکتی۔ نوین الغربلی کے اس اقدام سے غزہ کے ان طلباء کو بہت سہارا مل رہا ہے جو تعلیمی سال ضائع ہونے کے خدشات سے دوچار تھے۔ اگرچہ بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے اور ہر طرف ملبے کے ڈھیر اور تباہی کا راج ہے، لیکن اس چھوٹے سے بک اسٹال نے مقامی بچوں کو ایک بار پھر سے کتابوں سے جڑنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو نفسیاتی طور پر بھی جنگ زدہ بچوں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں تعلیم کے شعبے کو پہنچنے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، کیونکہ سینکڑوں اسکول یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا وہاں پناہ گزین مقیم ہیں۔ ایسے حالات میں نوین الغربلی جیسی شخصیات کی ذاتی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی سطح پر مزاحمت اور بقا کی جنگ کتنی طاقتور ہوتی ہے۔ کتابوں کا یہ عارضی اسٹال محض چند کتابوں کی نمائش نہیں ہے، بلکہ یہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ غزہ کے باسی علم کی روشنی سے محروم نہیں ہوں گے اور حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، وہ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔