World
یمن میں غذائی بحران: بچوں پر بھوک کے تباہ کن اثرات
یمن کے مہجر کیمپوں میں شدید بھوک اور قلتِ غذائیت نے معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یمن میں جاری طویل بحران اور خانہ جنگی کے اثرات اب وہاں کے معصوم بچوں کی زندگیوں پر سب سے زیادہ تباہ کن شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں بالخصوص مہجر کیمپوں میں بھوک اور شدید قلتِ غذائیت نے ہزاروں بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور فلاحی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ان کیمپوں میں خوراک کی عدم دستیابی اور طبی سہولیات کے فقدان کے باعث صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھنے پر مجبور ہیں اور ان کے پاس علاج کے لیے کوئی وسائل باقی نہیں رہے۔
الجزیرہ کی ٹیم نے یمن کے اندرونی علاقوں اور مہجر کیمپوں کا دورہ کرکے وہاں کی زمینی حقائق کا جائزہ لیا ہے۔ دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں اور طبی مراکز میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ تمام متاثرہ بچوں کا علاج کر سکیں، جس کی وجہ سے کئی بچے مناسب خوراک اور دوا نہ ملنے کی وجہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ صحت کے عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد فراہم نہ کی گئی تو یہ بحران ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یمن کے عوام کو درپیش اس معاشی اور غذائی بحران کی بڑی وجوہات میں طویل جنگ، مہنگائی اور امدادی سامان کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ بصورت دیگر آنے والے دنوں میں متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو مزید شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں تمام تر کوششوں کے باوجود تمام ضرورت مندوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں کیونکہ فنڈز کی کمی اور سیکیورٹی کے مسائل ان کے راستے کی بڑی دیوار بنے ہوئے ہیں۔
حکومتوں اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یمن کے بچوں کو اس خاموش طوفان سے بچانے کے لیے آگے آئیں اور سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر انسانی ہمدردی کے تحت اقدامات کریں۔ بچوں کے حقوق کے ادارے بارہا یہ یاد دہانی کرا چکے ہیں کہ جنگ کے اس کھیل میں سب سے بڑی قیمت معصوم بچوں کو چکانی پڑ رہی ہے، جن کا مستقبل اس وقت تاریک نظر آ رہا ہے۔