Politics
پی ٹی آئی لانگ مارچ: مرکز کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر تنقید
پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور مطالبات کے حق میں کوہاٹ سے مٹانی کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی قیادت کی جانب سے مرکز کی انسداد دہشت گردی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اور کارکنان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے نکالے جانے والے لانگ مارچ کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مارچ کوہاٹ سے شروع ہو کر مٹانی کی طرف گامزن ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان موجود ہیں۔ اس دوران سیاسی رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے اپنائی جانے والی انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اقدامات سے ملکی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو پہلے ہی سکیورٹی کے پیش نظر مختلف مقامات پر لاک ڈاؤن کی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں اور مظاہرین کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کے خدشات کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کے حلقوں اور پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن ریاستی مشینری کا استعمال کر کے اس آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس مارچ کو لے کر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور شہروں میں آمد و رفت کے راستے متاثر ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے ملک کے مجموعی سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔