Politics
پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ دفاعی اقدام
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلیجی خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانا اور عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ریاض، اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والے اہم سفارتی اور عسکری رابطوں کے بعد ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے حوثی حملوں کے تناظر میں اجتماعی دفاعی معاہدے کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں عسکری قیادت اور وزراء نے شرکت کی، جس میں خلیجی خطے کی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص حوثی حملوں کے پس منظر میں تینوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت خطے میں دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن کے قیام اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط حصار قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلم امہ کے اہم ممالک کا اس طرح ایک پلیٹ فارم پر آنا خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے اور اس سے دفاعی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے اسٹریٹجک امور پر بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو نئی جہت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت عملی اقدامات کا آغاز متوقع ہے جس سے خلیجی ممالک میں سکیورٹی کی صورتحال مزید بہتری کی طرف گامزن ہوگی۔