World
يمن جنگ اور حکومتی فورسز کی تازہ پیش قدمی
يمنى حكومت نواز فورسز نے ايران حمايتى حوثى باغيوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اہم اسٹریٹجک بندرگاہ اور بحیرہ احمر کا راستہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پیش قدمی کو یمن کی جنگ میں حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
يمن ميں جاری خانہ جنگی کے دوران حكومت نواز فورسز نے ایک اہم اور بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے ملک کے اسٹریٹجک بحیرہ احمر کے آبی راستے اور ایک اہم بندرگاہ کو حوثی باغیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یمنی عسکری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کی فورسز نے مخا کے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور وہاں اپنی پوزیشنوں کو مضبوط بناتے ہوئے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس کارروائی کو یمن کی موجودہ جنگی صورتحال میں حکومت کے لیے ایک بڑی عسکری فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف یہ جوابی کارروائی انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی ہے جس کا مقصد اہم تجارتی اور سمندری راستوں کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ اس پیش قدمی سے یمن کے ساحلی علاقوں میں حکومت کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گی جبکہ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے باغیوں کی رسد اور نقل و حرکت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یمن میں جاری اس طویل تنازعے نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور حالیہ جھڑپیں ملک کے سیاسی و عسکری منظر نامے میں ایک نیا موڑ لے کر آئی ہیں۔ حکومتی ترجمان اور عسکری عہدیداروں کا عزم ہے کہ ملک کے باقی حصوں سے بھی باغیوں کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں اس پیش قدمی کے نتیجے میں خطے میں سیاسی اور عسکری سطح پر مزید کیا تبدیلیاں آتی ہیں، اس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔