World
آبِ ہرمز میں تیل کی برآمدات پر حملوں کے خطرات
آبِ ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات میں حالیہ بحالی کو ایرانی ٹینکر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ خطے میں حالیہ حملوں نے توانائی کی نازک تجارت کے حوالے سے عالمی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیج فارس کے اہم ترین تجارتی راستے آبِ ہرمز سے تیل اور گیس کی برآمدات میں ہونے والی حالیہ بحالی ایک بار پھر شدید خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبِ ہرمز اور گردونواح کے سمندری حدود میں تیل کے برتنوں اور ٹینکرز پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی اور توانائی کی سپلائی لائن کے حوالے سے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات میں یونانی پرچم بردار ایل این جی کیریئر اور دیگر نئے ٹینکرز کو نامعلوم پراجیکٹائلز اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سمندری امور سے وابستہ خبر رساں اداروں کے مطابق کم از کم چار بڑے ٹینکرز اس تازہ لہر کی زد میں آ چکے ہیں، جن میں ڈائنا کام کی نئی کشتیاں بھی شامل ہیں۔ ان پے در پے حملوں نے خطے میں نیوی گیشن اور تجارتی جہاز رانی کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد جہاز رانی کمپنیوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے امور کے بین الاقوامی مشیروں کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا بھر کے لیے تیل کی ترسیل کی سب سے بڑی شاہراہ ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ براہ راست عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں برآمدات بحال ہونے کے آثار نمایاں ہو رہے تھے، تاہم حالیہ حملوں نے اس پیشرفت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور بیمہ کمپنیوں نے بھی خطے میں رسک کے تناسب پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سمندری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ آبِ ہرمز میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کی عالمی رسد کو مزید تعطل سے بچایا جا سکے، ورنہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔