LIVE
Loading Breaking News...

ماسکو میں افغانستان سے متعلق کانفرنس: پاکستان کا دہشت گردی پر اہم بیان

News Image
موسکو میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران پاکستان نے دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ خطے میں دہشت گردی افغان سرزمین سے جڑے مسائل کی جڑ ہے۔ اس موقع پر فریقین نے علاقائی تعاون اور سفارتی ذرائع سے اختلافات حل کرنے پر زور دیا۔
ماسکو میں منعقد ہونے والے حالیہ بین الاقوامی مشاورتی اجلاس کے دوران پاکستان کے نمائندوں نے اپنے دو ٹوک مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ افغانستان کے تمام بنیادی مسائل کے مرکز میں موجود ہے۔ پاکستانی وفد نے زور دیا کہ جب تک افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکا جاتا، خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس کانفرنس میں طالبان حکومت کے نمائندوں سمیت خطے کے کئی اہم ممالک کے سفارتکار بھی شریک تھے۔ اجلاس کے دوران فریقین کے درمیان خطے کی سلامتی اور معاشی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب افغان عبوری حکومت کے رہنماؤں نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ کابل حکومت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے اور تمام تنازعات کو جنگ کی بجائے باہمی سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ افغان حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ افغانستان کو خطے کے لیے ایک فعال معاشی مرکز بننا چاہیے تاکہ تمام ممالک تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ روسی اور دیگر علاقائی رہنماؤں نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا اس کے عسکری اثاثے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے سیکورٹی امور کو حل کرنے کے لیے علاقائی ممالک کو ہی آگے بڑھنا ہوگا اور بیرونی مداخلت سے گریز کرنا ہی خطے کے امن کی ضمانت ہے۔