Business
مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال، شیل کا بیان
برطانوی توانائی کمپنی شیل کے چیف ایگزیکٹو نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی نقل و حمل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب بحال ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی توانائی کمپنی شیل کے چیف ایگزیکٹو نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کا بہاؤ یا سپلائی اب جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً اسی فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈیوں میں خطے کے تنازعات کی وجہ سے کافی عرصے سے غیر یقینی کی کیفیت پائی جا رہی تھی اور تیل کی ترسیل کے راستوں پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔ شیل کے سربراہ کے اس مثبت بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کے دلوں میں سپلائی میں تعطل کا خوف کم ہونے لگا ہے۔ تاہم، بعض تجزیہ کاروں اور مالیاتی اداروں جیسے کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ آبِ ہرمز سے تیل کی نقل و حمل اور بحری جہازوں کی آمدورفت ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے اور حالات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جی سیون ممالک کی جانب سے خام تیل اور ڈیزل کے ذخائر مارکیٹ میں جاری کرنے کے منصوبوں نے بھی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن آبِ ہرمز کے راستے میں جہاز رانی کے خطرات اب بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپلائی کی مجموعی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ کچھ اور عرصہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس تمام تناظر میں شیل کے سی ای او کا یہ بیان عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم اشارہ ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سپلائی کے روایتی راستے آہستہ آہستہ اپنی بحالی کی طرف گامزن ہیں اور تاجروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔