LIVE
Loading Breaking News...

چین کی ای وی مارکیٹ اور بیٹری ری سائیکلنگ کا بحران

News Image
چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پرانی بیٹریوں کے تلف کرنے اور ری سائیکلنگ کا چیلنج سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو ماحول کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
چین میں برقی گاڑیوں (EVs) کی صنعت اس وقت ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور ملک بھر میں ان گاڑیوں کی مانگ میں روز بروز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے سبز توانائی اور ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں لاکھوں صارفین روایتی گاڑیوں کو چھوڑ کر الیکٹرک گاڑیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم، اس تمام کامیابی اور معاشی ترقی کے پس منظر میں ایک ایسا پوشیدہ چیلنج بھی سر اٹھا رہا ہے جو مستقبل میں سنگین ماحولیاتی اور معاشی بحران کا سبب بن سکتا ہے، اور وہ ہے استعمال شدہ بیٹریوں کا انتظام۔ اصول کے مطابق ریٹائرڈ بیٹریاں معاشی قدر کی حامل ہونے کی وجہ سے شاذ و نادر ہی براہ راست کوڑے کے ڈھیر پر جاتی ہیں، لیکن ان کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے موثر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ اصولاً جو بیٹریاں اچھی حالت میں رہتی ہیں انہیں کم درجے کے استعمال کے لیے دوبارہ کام میں لایا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر کو ری سائیکلنگ کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس تیزی سے مارکیٹ میں نئی گاڑیاں آ رہی ہیں اور پرانی بیٹریاں ناکارہ ہو رہی ہیں، ری سائیکلنگ کی موجودہ صلاحیت اس دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں لاکھوں پرانی بیٹریاں سڑکوں پر موجود گاڑیوں سے نکل کر مارکیٹ میں آئیں گی۔ اگر ان بیٹریاں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے یا ری سائیکل کرنے کے لیے فوری طور پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نہ کی گئی، تو اس سے نہ صرف قیمتی معدنیات ضائع ہوں گی بلکہ زمین اور پانی کے آلوده ہونے کا بھی خطرہ بڑھ جائے گا۔ حکومت اور بڑی آٹوموبائل کمپنیوں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چین کا یہ 'گرین ریولوشن' اپنے حقیقی مقاصد حاصل کر سکے اور طویل مدت میں ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔