World
برطانوی اسپیشل فورسز افغانستان شواہد پولیس کے حوالے
برطانوی فوج کی اسپیشل فورسز کے خلاف سال 2010 سے 2013 کے دوران افغانستان میں ہونے والے مبینہ حراستی آپریشنز کے شواہد پولیس کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد برطانوی اہلکاروں کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی اور مقدمات کا امکان روشن ہو گیا ہے۔
برطانوی فوج کی اسپیشل فورسز کو سنگین قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ افغانستان میں کیے جانے والے مبینہ آپریشنز کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد باضابطہ طور پر برطانوی پولیس کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ یہ شواہد بنیادی طور پر سال 2010 سے 2013 کے درمیان افغانستان میں سر انجام دیے جانے والے مختلف حراستی آپریشنز اور کارروائیوں سے متعلق ہیں۔ اس حساس معاملے پر تحقیقاتی عمل جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کارروائیوں کے دوران کسی بھی قسم کے جنگی قوانین یا ملکی ضابطوں کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق، یہ شواہد ایک طویل عرصے سے جاری جانچ پڑتال کا حصہ ہیں، جنہیں اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے تفصیلی جانچ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ برطانوی فوج کے اہلکاروں کے حوالے سے یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ فریقین طویل عرصے سے احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس کو شواہد کی منتقلی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ معاملہ اب صرف داخلی عسکری تحقیقات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں فوجداری نوعیت کی قانونی کارروائی کے امکانات بھی قوی ہو چکے ہیں۔
برطانوی وزارت دفاع اور متعلقہ محکمے اس پورے معاملے پر انتہائی محتاط ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی بھی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ اس نوعیت کے الزامات برطانوی فوج کے پیشہ ورانہ وقار پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت دونوں ہی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کے حامی نظر آتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ آیا ان شواہد کی بنیاد پر باضابطہ طور پر کسی بھی برطانوی فوجی اہلکار کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے یا نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی مغربی ممالک کی افواج کی جانب سے جنگ زدہ علاقوں میں کیے جانے والے آپریشنز پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان الزامات کے تحت مقدمات کا آغاز ہوتا ہے تو یہ برطانوی فوجی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک ہوں گے۔ اس وقت پوری توجہ پولیس کی تحقیقات اور اس کے ممکنہ نتائج پر مرکوز ہے جو یہ طے کریں گے کہ آیا برطانوی اسپیشل فورسز کے اراکین کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا یا نہیں۔