LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کو اکیلا چھوڑنے والی خاتون کا عدالت میں اعتراف جرم

News Image
برطانیہ میں بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ایک پچپن سالہ خاتون نے عدالت میں اپنے گھر میں ستائیس معصوم بچوں کو اکیلا اور بے یار و مددگار چھوڑنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ کِرک کالڈی شیرف کورٹ میں پیش آیا جہاں ملزمہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے علاقے میں بچوں کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دینے والی ایک پچپن سالہ خاتون نے اپنے گھر میں ستائیس معصوم بچوں کو اکیلا اور غیر محفوظ حالت میں چھوڑنے کے الزام میں عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ سنگین واقعہ کِرک کالڈی شیرف کورٹ میں پیش آیا جہاں اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی گئی اور ملزمہ کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ عدالتی دستاویزات اور استغاثہ کے مطابق امندا میتھیسن نامی اس خاتون پر الزام تھا کہ اس نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غفلت برتتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو ایک ہی گھر کے اندر بغیر کسی مناسب نگرانی یا بالغ سرپرست کے تنہا چھوڑا۔ اتنے سارے بچوں کو اس طرح غیر محفوظ چھوڑنے سے ان کی زندگی اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے، جس پر پولیس اور متعلقہ اداروں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ کِرک کالڈی شیرف کورٹ میں جب اس کیس کی سماعت ہوئی تو ملزمہ نے اپنے اوپر عائد کردہ غفلت اور بچوں کو ترک کرنے کے تمام الزامات کو تسلیم کر لیا۔ عدالت نے اس اعتراف کے بعد معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس غفلت کے پیچھے کیا محرکات تھے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد مقامی والدین اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈے کیئر اور ہوم چائلڈ مائنڈنگ کے شعبوں میں ضابطہ اخلاق کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ کسی بھی معصوم جان کو اس قسم کی لاپرواہی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ عدالت کی جانب سے ملزمہ کو جلد ہی مناسب سزا سنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔